قطعہ نگاری اردو میں عمومی طور پر تین اقسام کے الگ الگ مندرجہ ذیل الگ الگ پیٹرنز کے تحت ہوتی ہے:
سادہ قطعہ نگاری:
سب سے سادہ اور عام قطعہ نگاری کا پیٹرن ہے۔ اس میں قطعہ کا موضوع ایک جملے میں ذکر کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کی تفصیلی تشریح اور حوالے دیے جاتے ہیں۔ ایسے قطعوں میں معمولاً 3 تا 5 پیراگراف ہوتے ہیں۔
اس پیٹرن میں قطعہ کا موضوع سب سے پہلے پیراگراف میں ذکر کیا جاتا ہے جس کے بعد دوسرے پیراگراف میں اس کی تفصیلی تشریح اور حوالے دیے جاتے ہیں۔ تیسرے پیراگراف میں یہ تشریح جاری رکھی جاتی ہے جبکہ آخری پیراگراف میں ایک مختصر خاتمہ دیا جاتا ہے۔
تحقیقی قطعہ نگاری:
تحقیقی قطعہ نگاری میں قطعے کا موضوع ایک جملے میں ذکر کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کی تحقیق اور تجزیے پر مبنی تفصیلی تشریح شامل ہوتی ہے۔ ایسے قطعوں میں معمولاً 5 سے 7 پیراگراف ہوتے ہیں۔
اس پیٹرن میں پہلا پیراگراف قطعے کا موضوع بیان کرتا ہے جبکہ دوسرا اور تیسرا پیراگراف اس کی تحقیق اور تجزیے پر مبنی تفصیلات شامل کرتے ہیں۔ چوتھا اور پانچواں پیراگراف مزید تجزیے کے ساتھ اس تحقیق کو جاری رکھتے ہیں جبکہ آخری پیراگراف میں قطعے کا خاتمہ دیا جاتا ہے۔
تحریری قطعہ نگاری:
تحریری قطعہ نگاری میں قطعے کا موضوع ایک جملے میں بیان کیا جاتا ہے جس کے بعد اس پر مبنی تحریری انداز میں تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ ایسے قطعوں میں معمولاً 7 سے 10 پیراگراف ہوتے ہیں۔
اس پیٹرن میں پہلا پیراگراف موضوع کا ذکر کرتا ہے جبکہ بعدی پیراگرافوں میں تحریری انداز میں تفصیلی تشریح شامل ہوتی ہے۔ مختلف اندازوں سے اس موضوع کو مزید بیان کیا جاتا ہے جبکہ آخری پیراگراف میں ایک مختصر خلاصہ دیا جاتا ہے۔
ان تینوں پیٹرنز میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پیٹرن سادہ قطعہ نگاری ہے کیونکہ یہ سب سے آسان اور سادہ ہے۔ تحقیقی اور تحریری قطعہ نگاری بھی عام طور پر استعمال ہوتی ہیں مگر ان کی تیاری میں زیادہ وقت اور تحقیقی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
قطعہ نگاری کے دوسرے اہم عناصر شامل ہیں:
آغاز: قطعے کا آغاز اہم ہے کیونکہ یہ قارئین کی دلچسپی جذب کرتا ہے۔ آغاز میں موضوع کا حلقہ اٹھایا جاتا ہ
